Executive Summary
**یہ سالانہ رپورٹ ہماری مسلسل کوششوں کے دوران ایک سال کی پیش رفت، ثابت قدمی اور اثرات کو اجاگر کرتی ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ محفوظ اور جامع ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ہے۔**
اشاعت Aug 2026
**یہ سالانہ رپورٹ ہماری مسلسل کوششوں کے دوران ایک سال کی پیش رفت، ثابت قدمی اور اثرات کو اجاگر کرتی ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ محفوظ اور جامع ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ہے۔**
**یہ سالانہ رپورٹ ہماری مسلسل کوششوں کے دوران ایک سال کی پیش رفت، ثابت قدمی اور اثرات کو اجاگر کرتی ہے، جس کا مقصد ایک زیادہ محفوظ اور جامع ڈیجیٹل ماحول تشکیل دینا ہے۔**
منتخب وسائل جو اس موضوع سے متعلق ہیں۔
یہ رپورٹ **بین الاقوامی محنت تنظیم (ILO)** کے کنونشنز کے حوالے سے پاکستان کی تعمیل کا جائزہ لیتی ہے اور کارکنوں کے حقوق کے تحفظ میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ اس میں **جبری مشقت اور چائلڈ لیبر، امتیازی سلوک، قوانین کے کمزور نفاذ اور ناکافی مزدور تحفظات** جیسے مسائل کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں کارکنوں کے حقوق کو یقینی بنانے کے لیے **مؤثر قوانین، مضبوط عمل درآمد اور بہتر ادارہ جاتی نظام** قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
**رپورٹ میں 2025 کو ایک تشویش ناک سال قرار دیا گیا ہے، جس میں شہری آزادیوں کے دائرے میں نمایاں کمی، عدلیہ کی آزادی میں شدید زوال، بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی، اور آزادیِ اظہار پر شدید دباؤ دیکھا گیا۔**
NCHR کی رپورٹ "Caged in Care" میں پاکستان کے بحالی مراکز (Rehabilitation Centres) میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف کیا گیا ہے، جن میں زبردستی داخلہ، غیر قانونی حراست، ضرورت سے زیادہ سکون آور ادویات کا استعمال، ناقص رہائشی حالات اور طبی نگرانی کا فقدان شامل ہیں۔ خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر زیادہ خطرے سے دوچار پایا گیا، جنہیں اکثر حقیقی ذہنی صحت کی ضروریات کے بجائے خاندانی تنازعات یا سماجی دباؤ اور کنٹرول کی بنیاد پر مراکز میں قید رکھا جاتا تھا۔ تحقیق کے مطابق کمزور قوانین، ناقص نگرانی اور ذہنی صحت سے متعلق ناکافی قانونی نظام کی وجہ سے بہت سے مراکز بغیر مؤثر جواب دہی کے کام کر رہے ہیں۔ NCHR نے زیادہ مضبوط نگرانی، قانونی اصلاحات، مریضوں کے حقوق کے تحفظ اور ذہنی صحت کی دیکھ بھال میں انسانی حقوق پر مبنی طریقۂ کار اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
**پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) کے مطابق پاکستان دنیا میں کم عمری کی شادی کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔ کم عمری کی شادی سے لڑکیوں کو صحت کے مسائل، گھریلو تشدد اور غربت سمیت متعدد سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم عمری میں شادی کرنے والی لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے اور کم شرحِ خواندگی کا شکار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، کم عمری کی شادی ملک کی مجموعی سماجی اور معاشی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔** **حکومتِ پاکستان نے کم عمری کی شادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) نے 2022 میں پاکستان میں کم عمری کی شادی کے قانونی ڈھانچے سے متعلق ایک پالیسی بریف جاری کیا۔ اس پالیسی بریف میں پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانونی فریم ورک، قومی اور صوبائی قوانین، اور عدالتی نظائر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پالیسی بریف میں کم عمری کی شادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم ریاستی فریقین اور متعلقہ اداروں کے لیے تفصیلی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔**