Executive Summary
**پاکستان میں کم عمری کی شادی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اقوامِ متحدہ (UN) کے مطابق پاکستان دنیا میں کم عمری کی شادی کرنے والی لڑکیوں کی تعداد کے لحاظ سے چھٹے نمبر پر ہے۔ کم عمری کی شادی سے لڑکیوں کو صحت کے مسائل، گھریلو تشدد اور غربت سمیت متعدد سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کم عمری میں شادی کرنے والی لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے اور کم شرحِ خواندگی کا شکار ہونے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ مزید برآں، کم عمری کی شادی ملک کی مجموعی سماجی اور معاشی ترقی پر بھی منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔** **حکومتِ پاکستان نے کم عمری کی شادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے بعض اقدامات کیے ہیں۔ اس مسئلے کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، نیشنل کمیشن آن دی رائٹس آف چائلڈ (NCRC) نے 2022 میں پاکستان میں کم عمری کی شادی کے قانونی ڈھانچے سے متعلق ایک پالیسی بریف جاری کیا۔ اس پالیسی بریف میں پاکستان کے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانونی فریم ورک، قومی اور صوبائی قوانین، اور عدالتی نظائر کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پالیسی بریف میں کم عمری کی شادی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے اہم ریاستی فریقین اور متعلقہ اداروں کے لیے تفصیلی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں۔**